ایرانتازہ ترین

سری لنکا کے قریب ایرانی جہاز پر آبدوز حملہ، 100 سے زائد افراد لاپتہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )کولمبو — سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جہاز پر مبینہ آبدوز حملے کے بعد کم از کم 101 افراد لاپتہ جبکہ 78 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سری لنکن بحریہ اور وزارتِ دفاع کے ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کے روز سری لنکا کے جنوبی ساحلی علاقے کے قریب پیش آیا۔

رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد زخمی افراد کو فوری طور پر گالے کے نیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے بعد سمندر میں امدادی اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ لاپتہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔

سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ کس آبدوز کی جانب سے کیا گیا۔ تاہم دفاعی ذرائع کے مطابق واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی انتہائی حد تک بڑھ چکی ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس واقعے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ تنازع سمندری راستوں تک پھیلنے کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ بحیرہ عرب اور بحر ہند کے اہم تجارتی راستے پہلے ہی عالمی تجارت کے لیے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں، اور ایسے حملے عالمی بحری نقل و حمل پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

ادھر سری لنکن حکام نے متاثرہ جہاز کے عملے اور مسافروں کے بارے میں مزید معلومات جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سمندری حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

جانی نقصان اور امدادی سرگرمیاں

سری لنکن حکام کے مطابق:

  • لاپتہ افراد: حملے کے بعد سے اب تک 101 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
  • زخمی: واقعے میں 78 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طبی امداد کے لیے ‘گال’ (Galle) کے نیشنل اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
  • امدادی کارروائی: سری لنکن بحریہ کے جہاز اور ہیلی کاپٹرز جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاہم سمندر کی لہروں اور بگڑتی صورتحال کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔

حملے کے پیچھے کون؟

اگرچہ ابھی تک کسی ملک نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، لیکن بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کار اسے ایران اور امریکہ-اسرائیل حالیہ تنازع کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ ایران پر جاری ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی اثاثوں کو اتنی دور بحرِ ہند میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس حملے کا مقصد ایران کی بحری سپلائی لائن کو کاٹنا ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button