
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر نیٹو اتحادیوں کی عدم حمایت پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتحاد ایک “بہت بڑی غلطی” کر رہا ہے۔ واشنگٹن میں آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ نے یوکرین جنگ میں یورپ کا بھرپور ساتھ دیا، لیکن ایران کے معاملے پر اسے تنہا چھوڑ دیا گیا۔
ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال پر یورپی ممالک کا رویہ مایوس کن رہا، جہاں ایران کی جانب سے بحری راستے کو بند کرنے کی کوششوں نے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنی طاقت پر بھروسہ ہے، لیکن اتحادیوں کو بھی ساتھ دینا چاہیے تھا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک اور اسرائیل نے اس معاملے میں امریکہ کی حمایت کی، جبکہ یورپی ممالک پیچھے رہے۔ ان کے مطابق ایران کی عسکری صلاحیت کو حالیہ کارروائیوں میں شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، تاہم ایران اب بھی آبنائے ہرمز میں خطرہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نیٹو سے علیحدگی کے امکان سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت ایسا کوئی فیصلہ زیر غور نہیں، لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر مستقبل میں غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ نیٹو پر بھاری اخراجات کرتا ہے، اس لیے اتحادیوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے مدد کی پیشکش تاخیر سے کی گئی، جس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتے اختلافات نہ صرف نیٹو اتحاد کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو بھی مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں عالمی سطح پر اتحاد، توانائی کی فراہمی اور خطے کی سکیورٹی تینوں ہی دباؤ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔



