
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
امریکی صدر Donald Trump نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر Iran نے عالمی تیل کی ترسیل کے اہم راستے Strait of Hormuz کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا اس کے خلاف پہلے سے “بیس گنا زیادہ سخت” فوجی کارروائی کرے گا۔
اپنے ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل رکنے کی صورت میں امریکا ایسے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے جو ایران کے لیے دوبارہ تعمیر کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو ایران کو “آگ اور شدید تباہی” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ صورتحال اس حد تک نہ پہنچے۔
امریکی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور اس کے ذریعے چین سمیت دنیا کے کئی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ اسی لیے امریکا اس سمندری گزرگاہ کو کھلا رکھنے کو عالمی مفاد قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ ٹرمپ کے بعض قریبی مشیر ایران کے ساتھ جاری جنگ کے مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کا خیال ہے کہ اگر یہ تنازع طویل ہو گیا تو اس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور امریکی عوام میں جنگ کی حمایت بھی کم ہو سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں امریکی سیاست میں ایک حساس مسئلہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کانگریس اور عوامی حلقوں میں جنگ کے اثرات پر بحث جاری ہے۔ اسی وجہ سے بعض مشیر چاہتے ہیں کہ انتظامیہ اس فوجی کارروائی کو کامیاب قرار دے کر آہستہ آہستہ اسے محدود کرنے کی حکمت عملی اختیار کرے۔
ماہرین کے مطابق ایران جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اس کے فوری اثرات پڑ سکتے ہیں۔



