
مہر نیوز ایجنسی (تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی نے اتوار کو ایک اور خطرناک موڑ لے لیا، جب ایرانی میڈیا کے مطابق ملک کے 31 میں سے کم از کم 20 صوبے حملوں کی زد میں آئے۔ نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی نے ایرانی ہلالِ احمر کے حوالے سے بتایا کہ مختلف علاقوں میں بمباری اور فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی کی ہلاکت کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب کشیدگی ایران کی سرحدوں سے نکل کر پڑوسی ممالک تک پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ عراق کے صوبہ دیالی کے علاقے المقدادیہ میں ایک نامعلوم بم دھماکے میں کم از کم چھ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ ایک عراقی سکیورٹی ذریعے کے مطابق حملے کا ہدف بننے والی عمارت کی نوعیت ابھی واضح نہیں ہو سکی۔ دیالی صوبہ ایران سے متصل ہے اور ماضی میں بھی سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے۔

ادھر اربیل کے قریب امریکی افواج کے حریر اڈے پر بھی ڈرون حملے کی اطلاع ملی ہے۔ عراقی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون ایئرپورٹ کے نزدیک گر کر تباہ ہوا، تاہم نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
بغداد میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب مسلح گروہوں کے حامی سینکڑوں مظاہرین نے گرین زون میں واقع امریکی سفارتخانے کی جانب مارچ کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ حکام نے سفارتی علاقے کے گرد سخت حفاظتی حصار قائم کر دیا۔
خلیجی ملک عمان بھی اس کشیدگی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دقم کی تجارتی بندرگاہ پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جس میں ایک غیر ملکی کارکن زخمی ہوا۔ ایک اور ڈرون کا ملبہ ایندھن کے ٹینکوں کے قریب گرا، تاہم مزید نقصان نہیں ہوا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کا دائرہ کار ظاہر کرتا ہے کہ خطہ ایک وسیع اور غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان براہِ راست تصادم کے ساتھ ساتھ علاقائی محاذ بھی گرم ہو رہے ہیں، جس سے سفارتی حل کی راہیں مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہیں۔



