
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی قدامت پسند میڈیا شخصیت اور پوڈکاسٹ میزبان ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ان کے خلاف ایک ممکنہ فوجداری کیس تیار کر رہا ہے، جس میں انہیں غیر ملکی ایجنٹ قرار دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
کارلسن کے مطابق یہ معاملہ اس الزام سے جڑا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ایران میں کچھ افراد سے رابطے کیے تھے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بنیاد پر ان کے خلاف فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (FARA) کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے، جو ایسے افراد کو حکومت کے ساتھ رجسٹریشن کا پابند بناتا ہے جو کسی غیر ملکی حکومت یا ادارے کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔
اپنے بیان میں ٹکر کارلسن نے کہا کہ وہ کسی بھی غیر ملکی طاقت کے ایجنٹ نہیں ہیں اور انہوں نے کبھی کسی حکومت یا بیرونی فریق سے مالی فائدہ نہیں لیا۔ ان کے مطابق صحافت اور میڈیا کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے دنیا بھر کے لوگوں سے بات کرنا معمول کی بات ہے۔

تاہم کارلسن نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا۔ دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف اور سی آئی اے سے اس حوالے سے موقف لینے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم ابھی تک ان اداروں کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
حالیہ دنوں میں ٹکر کارلسن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ جنگی پالیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس جنگ کو “انتہائی غلط اور نقصان دہ” قرار دیا تھا۔ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ کارلسن اپنی پالیسیوں سے ہٹ گئے ہیں اور اب وہ “MAGA” تحریک کی نمائندگی نہیں کرتے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا میں ایران جنگ کے معاملے پر میڈیا اور سیاسی حلقوں میں واضح اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق اس تنازع نے امریکی سیاست، میڈیا اور قومی سلامتی کے مباحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔



