تازہ ترینترکی

ترکی اور مصر کے درمیان 350 ملین ڈالر کا بڑا دفاعی معاہدہ، فضائی دفاع اور اسلحہ سازی میں تعاون

انقرہ/قاہرہ — ترکی کی سرکاری دفاعی کمپنی مکینیکل اینڈ کیمیکل انڈسٹری کارپوریشن (MKE) نے مصر کی وزارتِ دفاع کے ساتھ 350 ملین ڈالر مالیت کے ایک اہم دفاعی برآمدی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کی بڑی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق یہ معاہدہ ترک صدر رجب طیب اردوان کے حالیہ دورۂ مصر کے دوران طے پایا، جہاں ان کی ملاقات مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ہوئی۔ یاد رہے کہ 2013 کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی رہی، تاہم 2023 میں سفارتی بحالی کے بعد تعاون میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

ترکی کی وزارتِ دفاع کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس معاہدے کے تحت MKE مصر کو Tolga شارٹ رینج ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم کرے گی، جس کی مالیت تقریباً 130 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ یہ نظام خاص طور پر ڈرونز اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول، ریڈار، الیکٹرو آپٹیکل سسٹمز اور الیکٹرانک جیمنگ کی صلاحیت شامل ہے۔

معاہدے کا باقی حصہ، جس کی مالیت تقریباً 220 ملین ڈالر ہے، مصر میں 155 ملی میٹر طویل فاصلے کے توپ خانے کے گولے اور 7.62 ملی میٹر اور 12.7 ملی میٹر گولہ بارود کی تیاری کے لیے پیداواری یونٹس کے قیام پر خرچ کیا جائے گا۔ دونوں ممالک نے ان منصوبوں کے انتظام اور خطے میں برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے مشترکہ کمپنی قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف ترکی کی دفاعی صنعت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ مصر کے لیے بھی اپنی فوجی خودکفالت بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ کے بعد خطے میں سیکیورٹی چیلنجز بڑھے ہیں، جس کے باعث انقرہ اور قاہرہ کے مفادات کئی معاملات میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ MKE 1950 میں قائم ہوئی تھی اور طویل عرصے سے ترک مسلح افواج کی بنیادی اسلحہ سپلائر رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں کمپنی نے اپنی ساخت جدید بناتے ہوئے نیٹو ممالک اور دیگر شراکت داروں کو برآمدات بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہے، جبکہ Tolga ایئر ڈیفنس سسٹم پہلے ہی قطر کو بھی برآمد کیا جا چکا ہے۔

مبصرین کے مطابق ترکی اور مصر کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ آئندہ برسوں میں خطے کے عسکری توازن اور دونوں ممالک کے تعلقات پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button