چین

کیا ایران امریکہ تنازعے کا اصل فاتح چین ہے؟ پیٹرو ڈالر کو درپی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری عسکری تنازعے کے دوران، عالمی جیو پولیٹیکل منظرنامے پر ایک نیا اور حیران کن بیانیہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ متعدد بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ अग्र صف (frontline) پر لڑائی ایران اور امریکہ کے درمیان ہے، لیکن اس جیو پولیٹیکل شطرنج کا اصل کھلاڑی خاموشی سے چین ہے، جس نے اس تنازعے کو اپنے طویل مدتی اقتصادی اور سٹریٹجک مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔

ایران تو بس بہانہ تھا، اصل نشانہ چین تھا؟

یہ نظریہ تیزی سے زور پکڑ رہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر براہ راست فوجی حملے کا اصل محرک صرف ایرانی جوہری پروگرام یا علاقائی اثر و رسوخ نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو روکنے کی ایک وسیع تر امریکی حکمت عملی تھی۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی پالیسی میں چین کو واضح طور پر امریکہ کا "نمبر 1 سٹریٹجک حریف” (enemy) قرار دیا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، چین نے امریکی "ورلڈ آرڈر” کو دو اہم طریقوں سے چیلنج کیا ہے:

  1. پیٹرو ڈالر (Petrodollar) ڈیل کو چیلنج: دہائیوں سے عالمی تیل کی تجارت ڈالر میں ہوتی آئی ہے، جسے "پیٹرو ڈالر” کا نام دیا جاتا ہے۔ چین نے اس اجارہ داری کو توڑنے کے لیے دیگر ممالک، بشمول روس اور ایران، کے ساتھ مل کر اپنی کرنسی، یوآن (Yuan)، کو عالمی تیل کی تجارت کے لیے استعمال کرنے کی مہم شروع کی ہے۔
  2. ڈالر کی بالادستی کو کمزور کرنا: چین کا حتمی مقصد یوآن کو ایک عالمی ریزرو کرنسی کا درجہ دلوانا ہے، تاکہ ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکے اور امریکی اقتصادی پابندیوں کے اثرات کو محدود کیا جا سکے۔

امریکہ نے چین کے ان عزائم کو اپنے عالمی غلبے کے لیے ایک وجودی خطرہ تصور کیا اور ایران اور وینزویلا جیسے ممالک، جو چین کے قریبی اقتصادی اور سٹریٹجک اتحادی ہیں، پر پابندیوں اور فوجی دباؤ کے ذریعے چین کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔

چین کی ایران کو درپردہ حمایت: امریکی عزائم کا سدِباب

تاہم، چین نے اس امریکی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کو درپردہ، لیکن انتہائی اہم حمایت فراہم کی ہے:

  1. انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کی فراہمی: رپورٹس کے مطابق، چین نے ایران کو رئیل ٹائم سیٹلائٹ تصاویر اور انٹیلی جنس معلومات فراہم کی ہیں، جس نے ایران کو امریکی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھنے میں مدد دی ہے۔ اس کے علاوہ، ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام، خاص طور پر شاہد ڈرونز (Shahed Drones)، کے لیے ضروری کیمیکل مواد اور پرزے بھی چین سے سپلائی کیے جا رہے ہیں۔
  2. اقتصادی لائف لائن: امریکی پابندیوں کے باوجود، چین ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار رہا ہے۔ چین نے اربوں ڈالر مالیت کا ایرانی تیل خرید کر ایران کی معیشت کو سہارا دیا ہے اور اسے امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے روکا ہے۔

آبنائے ہرمز اور یوآن کا نفاذ: ڈالر کے لیے ایک نیا خطرہ

اس تنازعے کا سب سے حیران کن پہلو آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں پیش آیا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کی ہیں اور خلیج میں اپنی عسکری موجودگی بڑھائی ہے، لیکن چین واحد ملک ہے جس کے تیل کے جہاز آبنائے ہرمز سے بلا روک ٹوک گزر سکتے ہیں۔

مزید برآں، ایران نے اب ایک نیا اور انقلابی مطالبہ کر دیا ہے: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی ملک کے تیل کے جہاز کو ٹیکس چینی کرنسی، یوآن، میں ادا کرنا ہوگا۔

یہ اقدام پیٹرو ڈالر ڈیل کے لیے ایک براہ راست اور سنگین خطرہ ہے۔ اگر عالمی سطح پر تیل کی تجارت میں یوآن کا استعمال بڑھتا ہے تو، ڈالر کی بالادستی کمزور ہو سکتی ہے اور امریکہ کا عالمی اقتصادی نظام پر کنٹرول ختم ہو سکتا ہے۔

نتیجہ: کیا امریکہ کو منہ کی کھانی پڑی؟

موجودہ صورتحال یہ بتاتی ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کرکے چین کا گلا گھونٹنا چاہا تھا، لیکن یہاں چین نے الٹا امریکہ کا گلا گھونٹنا شروع کر دیا ہے۔ چین نے ڈالر کے بجائے اپنی کرنسی، یوآن، کو عالمی سطح پر نافذ کروا دیا ہے اور آبنائے ہرمز میں اپنی برتری قائم کر لی ہے۔

یہ جیو پولیٹیکل تبدیلی عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی منتقلی کا اشارہ دیتی ہے، جہاں چین اب نہ صرف ایک اقتصادی سپر پاور ہے، بلکہ ایک فعال اور مؤثر سٹریٹجک کھلاڑی بھی ہے، جو امریکی عزائم کو چیلنج کرنے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button