
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
انقرہ میں کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہاکان فیدان نے کہا کہ موجودہ صورتحال خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور سکیورٹی پر بھی مرتب ہوں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جاری تنازع صرف ایک علاقائی بحران نہیں بلکہ بین الاقوامی استحکام کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے، اس لیے عالمی برادری کو فوری اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
روس-یوکرین امن عمل پر بھی اثرات کا خدشہ
ترک وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی روس اور یوکرین کے درمیان جاری امن کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکی اب بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اگلے دور کی بات چیت کی میزبانی جلد از جلد کرنے کا خواہاں ہے۔ ترکی اس سے قبل بھی ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
مسجد اقصیٰ اور مذہبی کشیدگی
ہاکان فیدان نے مسجد اقصیٰ میں عبادت پر پابندیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “ناقابلِ قبول اقدام” قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دیتے ہیں، اس لیے عالمی برادری کو اس کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔
لبنان میں اسرائیلی کارروائی پر تشویش
ترک وزیر خارجہ نے لبنان میں اسرائیلی زمینی کارروائی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق اس آپریشن کے باعث عام شہریوں کو سنگین نتائج کا سامنا ہے اور یہ خطرہ موجود ہے کہ یہ کارروائی کسی مستقل قبضے کی شکل اختیار نہ کر لے۔
انہوں نے واضح کیا کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا اور انسانی بحران کو بڑھانا قابلِ قبول نہیں اور اس حوالے سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
خطے کی مجموعی صورتحال
تجزیہ کاروں کے مطابق:
- مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع تیزی سے پھیل رہا ہے
- ایران، اسرائیل، لبنان اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے
- بڑی طاقتیں بھی اس بحران میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو رہی ہیں
ایسے میں ترکی کا سفارتی کردار اہمیت اختیار کر گیا ہے، جو ایک طرف روس-یوکرین مذاکرات کی میزبانی کرنا چاہتا ہے اور دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری جنگ بندی نہ ہوئی تو:
- خطے میں ایک وسیع جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
- عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے
- بین الاقوامی اتحاد اور سفارتی توازن مزید کمزور ہو سکتا ہے
ترکی سمیت کئی ممالک اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فوجی راستے کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے، ورنہ صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔



