ترکی کا جوہری راستہ: ایک ایسا خطرہ جسے اسرائیل نظر انداز نہیں کر سکتا

علاقائی اور عالمی سطح پر ترکی کا جوہری پروگرام ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ اگرچہ انقرہ سرکاری طور پر اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کو صرف شہری اور توانائی کے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، تاہم اسرائیلی اور مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو انفراسٹرکچر ترکی بتدریج تعمیر کر رہا ہے، وہ مستقبل میں مخصوص حالات میں عسکری جوہری صلاحیت کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
ترکی 1952 میں نیٹو میں شامل ہوا تھا اور تب سے وہ اتحاد کے جوہری تحفظ (Nuclear Umbrella) پر انحصار کرتا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ترکی کے انجرلک ایئر بیس پر کئی دہائیوں سے امریکی جوہری ہتھیار موجود رہے ہیں۔ اس کے باوجود ترکی خود جوہری ہتھیار نہیں رکھتا اور 1969 میں دستخط کیے گئے جوہری عدم پھیلاؤ معاہدہ کے تحت اس کا پابند ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں ترک قیادت کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جنہوں نے شکوک کو جنم دیا ہے۔ 2019 میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک خطاب میں سوال اٹھایا تھا کہ کچھ ممالک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت کیوں ہے جبکہ ترکی جیسے ممالک کو اس حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اسی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے جولائی 2025 میں ترک وزیر خارجہ حکان فیدان نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو ’’ساختی ناانصافی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ بڑی طاقتوں کی بالادستی کو تحفظ دیتا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ترکی کو اپنے پڑوسی اور دیرینہ حریف ایران کے جوہری پروگرام پر بھی گہری تشویش ہے، جبکہ خطے میں اسرائیل کی مبینہ جوہری صلاحیت بھی ایک اہم عنصر سمجھی جاتی ہے۔
عملی سطح پر ترکی نے 2018 میں اکویو نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر شروع کی، جو روسی سرکاری ادارے روس ایٹم کے تعاون سے بنایا جا رہا ہے۔ تقریباً 24 ارب ڈالر کے اس منصوبے میں چار ری ایکٹر شامل ہیں اور توقع ہے کہ یہ ترکی کی سالانہ بجلی کی ضروریات کا قریب 10 فیصد پورا کرے گا۔ اگرچہ یہ منصوبہ بظاہر مکمل طور پر شہری نوعیت کا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس سے جوہری علم اور تکنیکی بنیاد ضرور تیار ہو رہی ہے۔

ترکی کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے تعلقات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد مسلم جوہری ملک ہے اور دفاعی و اسٹریٹجک سطح پر دونوں ممالک کے درمیان قربت میں اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ تعلقات ترکی کو طویل مدت میں جوہری توانائی کے شعبے میں خودانحصاری کی جانب لے جا سکتے ہیں۔
ترکی میں اندرونی سطح پر بھی اس پروگرام پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ اپوزیشن جماعتیں ماحولیاتی خطرات، زلزلہ زدہ علاقوں میں نیوکلیئر پلانٹس کی تعمیر اور روس پر بڑھتے انحصار پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ اس کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک اردوان اقتدار میں ہیں، اور ممکنہ طور پر ان کے بعد بھی، ترکی جوہری صلاحیت کی سمت اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

اسرائیلی اسٹریٹجک حلقوں کے مطابق، اگرچہ ترکی کا جوہری ہتھیار بنانا فوری خطرہ نہیں، لیکن علم، انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی روابط کا بتدریج جمع ہونا مستقبل میں علاقائی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے اسرائیل کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ وہ ترکی کی اس پیش رفت کو اپنی طویل المدتی سیکیورٹی منصوبہ بندی اور علاقائی خطرات کے جائزے میں شامل رکھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ عمل اگرچہ سست ہو سکتا ہے، مگر اس کے اثرات دیرپا ہوں گے اور مشرقِ وسطیٰ کی اسٹریٹجک تصویر کو بتدریج بدل سکتے ہیں۔



