
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے خلیجی ممالک پر ایران کے حالیہ حملوں کو “سنگین اسٹریٹجک غلطی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرزِ عمل سے ایران کے لیے خطے میں مستقل دشمنی پیدا ہو سکتی ہے۔
ریاض میں عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں فیدان نے کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانا نہ تو حکمتِ عملی کے لحاظ سے درست ہے اور نہ ہی عملی طور پر فائدہ مند۔ ان کے مطابق اگر ایران یہ سمجھتا ہے کہ ان حملوں کے ذریعے خلیجی ممالک امریکہ پر دباؤ ڈالیں گے تو یہ اندازہ غلط ہے۔
فیدان کے مطابق خلیجی ممالک نے اس جنگ میں غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی ہے اور واضح کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، اس کے باوجود انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فیدان کی ریاض میں موجودگی کے دوران ہی میزائل حملوں کی وارننگ جاری ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ان کے موبائل فون پر بھی خطرے کا الرٹ موصول ہوا، تاہم وہ اپنے وفد کے ہمراہ وہیں موجود رہے اور بعد ازاں اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے۔ اس دوران شہر میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
بعد ازاں سعودی حکام نے تصدیق کی کہ فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائل اور 2 ڈرونز کو تباہ کر دیا، جبکہ گرنے والے ملبے سے چند مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

فیدان نے کہا کہ ریاض میں ہونے والے اجلاس کا بنیادی مقصد خلیجی ممالک پر بڑھتے ایرانی حملوں کا جائزہ لینا تھا۔ ان ممالک نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ انہیں ایسے تنازع میں گھسیٹا جا رہا ہے جس کا وہ حصہ نہیں ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ نہ صرف ایران کے ان اقدامات کی مخالفت کرتا ہے بلکہ اسرائیل کی جانب سے خطے میں جاری کارروائیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو خلیجی ممالک کو جوابی اقدامات پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جس سے خطہ ایک طویل اور وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ترکیہ کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جہاں مختلف ممالک کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ایک بڑے تصادم کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان براہِ راست کشیدگی بڑھی تو اس کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ، سمندری تجارت اور علاقائی استحکام پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ایک معمولی پیش رفت بھی بڑے علاقائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔



