(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): مشرق وسطیٰ کی کشیدہ ترین صورتحال نے ہفتے کی صبح اس وقت ایک خطرناک موڑ لے لیا جب امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر اچانک اور بڑے فضائی حملے (Preemptive Strikes) کر دیے۔ دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں شدید دھماکوں کی گونج سنی گئی ہے، جس کے بعد خطے میں ایک وسیع اور تباہ کن جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں (رائٹرز اور یروشلم پوسٹ) کی تازہ ترین رپورٹس اور عسکری ذرائع سے موصول ہونے والی اس انتہائی اہم پیشرفت کی تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں:
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی خفیہ مقام پر منتقلی اس اچانک حملے کے فوراً بعد بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ نے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اب تہران میں موجود نہیں ہیں۔ سکیورٹی کے انتہائی سنگین خطرات کے پیشِ نظر انہیں دارالحکومت سے بحفاظت نکال کر ایک ‘خفیہ اور محفوظ مقام’ (Secure Location) پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹرز سمیت 30 مقامات نشانہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، اس مشترکہ فوجی آپریشن میں ایران کے اندر 30 سے زائد انتہائی حساس اور اسٹریٹجک مقامات پر بمباری کی گئی ہے۔ ان اہداف میں ایران کی سب سے طاقتور عسکری قوت ‘پاسداران انقلاب’ (IRGC) کا ہیڈ کوارٹر اور سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کے قریبی علاقے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس ابتدائی حملے میں ایران کی تمام اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے تہران میں تین اہم ترین مقامات پر بمباری کی ہے، جس کا بنیادی مقصد ایران کے فوجی اور دفاعی نظام کو مکمل طور پر مفلوج اور تباہ کرنا ہے۔
بمباری چار دن تک جاری رہنے کا امکان ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی صرف ایک دن تک محدود نہیں رہے گی بلکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر اگلے 4 روز تک مسلسل بمباری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کا مقصد ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
اسرائیل میں ہنگامی حالت (اسٹیٹ آف ایمرجنسی) نافذ ایران پر اس اچانک اور تباہ کن حملے کے ساتھ ہی اسرائیل نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے ہفتے کی صبح اپنے تمام شہریوں کو موبائل پر الرٹ جاری کیے ہیں کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات، بنکرز اور شیلٹرز کے قریب چلے جائیں۔
آئی ڈی ایف کے ترجمان کا کہنا ہے: "یہ ایک پیشگی الرٹ ہے تاکہ عوام کو ریاستِ اسرائیل کی جانب داغے جانے والے ممکنہ ایرانی میزائلوں کے جوابی حملے سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جا سکے۔” جیو پولیٹیکل تجزیہ دفاعی ماہرین کے مطابق، یہ پیشگی حملہ دراصل اس انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل پر کسی بڑے حملے کی تیاری کر رہا تھا۔ تاہم، واشنگٹن اور تل ابیب کے اس اقدام نے مشرق وسطیٰ کو ایک ایسی باقاعدہ جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی بین الاقوامی ترسیل پر انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب پوری دنیا کی نظریں ایران کے ممکنہ جوابی وار پر مرکوز ہیں۔



