
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ فضائیہ کا ایک ری فیولنگ طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے دوران پیش آیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ طیارے کو کسی دشمن حملے کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ خطے میں جاری فوجی مشن کے دوران پرواز کر رہا تھا۔ امریکی فوجی کمان United States Central Command نے ایک بیان میں کہا کہ واقعہ "آپریشن ایپک فیوری” کے دوران پیش آیا، جو ایران سے متعلق جاری فوجی کارروائی کا حصہ ہے۔
حکام کے مطابق اس حادثے میں دو طیارے شامل تھے۔ ایک طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ ہوا جبکہ دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور عملے کی تلاش کا کام شروع کر دیا گیا۔
حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ Boeing KC-135 Stratotanker تھا، جو امریکی فضائیہ کے اہم ری فیولنگ طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ طیارہ عام طور پر جنگی جہازوں اور بمبار طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ وہ طویل فاصلے تک مشن جاری رکھ سکیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے طیارے کسی بھی بڑے فوجی آپریشن میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان کی مدد سے لڑاکا طیارے بغیر زمین پر اترے طویل مدت تک پرواز اور کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس طیارے میں عام طور پر تین سے پانچ افراد پر مشتمل عملہ موجود ہوتا ہے جن میں پائلٹ، کو پائلٹ اور بوم آپریٹر شامل ہوتے ہیں۔ تاہم حادثے کے بعد عملے کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کئی امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بعض دیگر فوجی حادثات اور واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل رواں ماہ F-15 Eagle طیاروں کے گرنے کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا جسے ابتدائی طور پر "فرینڈلی فائر” حادثہ قرار دیا گیا تھا۔ اس واقعے میں طیاروں کے عملے نے ایجیکٹ کر کے اپنی جان بچا لی تھی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے فوجی تنازع میں اس نوعیت کے حادثات غیر معمولی نہیں ہوتے، تاہم ان کا اثر فوجی آپریشنز اور عوامی رائے دونوں پر پڑ سکتا ہے۔



