امریکاایران

امریکا ایران کے خلاف ممکنہ طویل فوجی کارروائی کی تیاری میں، سفارتی کوششوں پر سوالات

امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اگر صدر Donald Trump ایران کے خلاف حملے کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج کئی ہفتوں پر محیط کارروائی کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ دو امریکی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ منصوبہ ماضی کی محدود نوعیت کی کارروائیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور طویل ہو سکتا ہے۔

سفارت کاری یا عسکری دباؤ؟

یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے سفارت کار عمان میں حالیہ مذاکرات کے بعد دوبارہ بات چیت کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام پر کشیدگی کم کرنا تھا، تاہم واشنگٹن کی جانب سے خطے میں فوجی طاقت میں اضافے نے خدشات کو جنم دیا ہے۔

جمعہ کو امریکی حکام نے تصدیق کی کہ پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑا بھیج رہا ہے، جس کے ساتھ اضافی ہزاروں فوجی، لڑاکا طیارے اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی تعینات کیے جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف حملے بلکہ ممکنہ جوابی کارروائی سے دفاع کی تیاری کا بھی حصہ ہے۔

ٹرمپ کا بیان

شمالی کیرولائنا میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا "مشکل” ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "کبھی کبھی خوف بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ صورتحال کو سنبھالا جا سکے۔”

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ صدر کے پاس ایران کے حوالے سے "تمام آپشنز میز پر موجود ہیں” اور حتمی فیصلہ قومی سلامتی کے مفاد میں کیا جائے گا۔ پینٹاگون نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

خطرات اور ممکنہ نتائج

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر کارروائی چند روزہ محدود حملے کے بجائے کئی ہفتوں تک جاری رہتی ہے تو اس سے نہ صرف امریکی افواج بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ گزشتہ سال جون میں امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر "مڈنائٹ ہیمر” نامی محدود حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر محدود کارروائی کی تھی۔

موجودہ تیاریوں کو اس سے کہیں زیادہ وسیع تصور کیا جا رہا ہے، جس میں فضائی، بحری اور ممکنہ طور پر سائبر آپریشنز شامل ہو سکتے ہیں۔

آگے کا منظرنامہ

فی الحال سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، تاہم عسکری تیاریوں میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن مذاکرات اور دباؤ دونوں حکمت عملیوں کو بیک وقت استعمال کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ حکمت عملی کسی معاہدے پر منتج ہوگی یا خطہ ایک نئے بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button