ایرانتازہ ترین

ایران پر حملوں میں امریکی B-1 “لینسر” اسٹریٹجک بمبار طیاروں کا استعمال، سینٹکام کی تصدیق

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی فضائیہ نے B-1 “Lancer” اسٹریٹجک بمبار طیاروں کو استعمال کرتے ہوئے ایرانی اہداف پر حملے کیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ان طیاروں نے ایران کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا، جن کا تعلق خاص طور پر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے تھا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بمبار طیارے جنوبی ڈکوٹا میں واقع Ellsworth Air Force Base سے اڑے اور بغیر رکے مشن مکمل کر کے واپس پہنچے۔ اس طویل فاصلے کے آپریشن کے دوران انہیں KC-46 Pegasus ٹینکر طیاروں کی مدد سے فضا میں ایندھن فراہم کیا گیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے طویل فاصلے کے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نشانہ بنائے گئے مقامات ممکنہ طور پر زیرزمین یا انتہائی محفوظ فوجی تنصیبات تھیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ B-1 بمبار طیارے آئندہ بھی ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی فضائیہ کے مختلف پلیٹ فارمز، جن میں B-2، B-52، B-1 بمبار، پریڈیٹر ڈرون اور لڑاکا طیارے شامل ہیں، اب ایران کی فضائی حدود پر کنٹرول حاصل کر کے اہم اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ B-1 لینسر اپنی بڑی روایتی ہتھیار برداری صلاحیت کی وجہ سے امریکی فضائیہ کے اہم ترین بمبار طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ طیارہ ایک وقت میں 75 ہزار پاؤنڈ سے زائد بارودی مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور عام طور پر 2000 پاؤنڈ وزنی JDAM گائیڈڈ بم استعمال کرتا ہے، جو انتہائی درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سیٹلائٹ تصاویر کے ابتدائی تجزیے سے بھی اشارہ ملتا ہے کہ ایران کے بعض میزائل ذخیرہ کرنے والے مراکز اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، تاہم ان حملوں کے مکمل اثرات کے بارے میں حتمی معلومات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ بڑے بمبار طیاروں کے استعمال میں اضافہ کرتا ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف طویل المدتی فوجی مہم کے لیے تیار ہو رہا ہے، جس کا مقصد ایران کی اسٹریٹجک اور میزائل صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button