امریکاتازہ ترین

امریکہ کے جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ روانہ، ہزاروں میرینز کی تعیناتی کا اشارہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کرنے کے لیے اہم بحری جہاز روانہ کر دیے ہیں، جس سے خطے میں ممکنہ بڑے آپریشن کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کے کم از کم تین بڑے جنگی جہاز کیلیفورنیا کے سان ڈیاگو نیول بیس سے روانہ ہوئے ہیں۔ ان میں USS Boxer، USS Portland اور USS Comstock شامل ہیں، جو جدید فوجی سازوسامان اور ہزاروں میرین اہلکاروں کو لے کر روانہ ہوئے ہیں۔

اگرچہ امریکی بحریہ کے تھرڈ فلیٹ نے ان سرگرمیوں کو “معمول کی کارروائیاں” قرار دیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جہاز درحقیقت مشرقِ وسطیٰ کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق یہ بحری بیڑا ایک مکمل آپریشنل یونٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ USS Boxer ایک چھوٹے طیارہ بردار جہاز کے طور پر کام کرتا ہے، جبکہ دیگر دونوں جہاز امفیبیئس (خشکی و سمندر دونوں پر کارروائی کے قابل) لینڈنگ ویسلز ہیں، جو ساحلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ان جہازوں پر تقریباً 2,500 میرینز سمیت مجموعی طور پر 4,000 کے قریب فوجی اہلکار تعینات ہیں، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تعیناتی عام طور پر اس وقت کی جاتی ہے جب کسی خطے میں ممکنہ زمینی یا ساحلی آپریشن کی تیاری ہو، یا فوجی دباؤ بڑھانے کا مقصد ہو۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز اور خلیجی علاقوں میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ فورسز نہ صرف بحری راستوں کو محفوظ بنانے بلکہ ضرورت پڑنے پر حساس مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے یا اتحادی ممالک کی مدد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی جانب سے اس سطح کی فوجی نقل و حرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن خطے میں کسی بھی ممکنہ تصادم یا ہنگامی صورتحال کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔

موجودہ صورتحال میں جہاں ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، وہاں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تعیناتی اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا یہ صرف دفاعی اقدام ہے یا کسی بڑے فوجی آپریشن کا پیش خیمہ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button