تازہ ترینمشرق وسطی

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے متحدہ عرب امارات کا بڑا فیصلہ،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان متحدہ عرب امارات نے ایک بڑا اور غیر معمولی قدم اٹھانے کا عندیہ دیا ہے، جہاں وہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلوانے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ممکنہ فوجی کارروائی میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔

عرب حکام کے مطابق اماراتی قیادت نے اس مقصد کے لیے سفارتی سطح پر بھرپور مہم شروع کر دی ہے، جس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک ایسی قرارداد منظور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھولنے کی اجازت دے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ، یورپی ممالک اور ایشیائی طاقتوں کو بھی ایک مشترکہ اتحاد بنانے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران خلیجی ممالک کو براہ راست خطرات کا سامنا ہے، اور اطلاعات کے مطابق امارات بھی ایرانی حملوں کی زد میں آ چکا ہے۔ اسی تناظر میں امارات اب پہلے خلیجی ملک کے طور پر کھل کر جنگی میدان میں اترنے کی پوزیشن میں نظر آ رہا ہے۔

اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور وہ آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے، اور اس کی بندش عالمی توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امارات واقعی اس تنازع میں براہ راست شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ ماضی میں خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن حالیہ حالات نے انہیں زیادہ سخت مؤقف اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔

ماہرین مزید خبردار کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی کارروائی کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ شامل ہے۔

ادھر سفارتی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امارات ایک “حتمی حل” چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے خطرات دوبارہ پیدا نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف فوری طور پر آبی گزرگاہ کو کھلوانا چاہتا ہے بلکہ خطے میں طویل المدتی سیکیورٹی انتظامات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ نہ صرف جاری جنگ کا رخ بدل سکتا ہے بلکہ خلیجی خطے میں طاقت کے توازن کو بھی نئی شکل دے سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button