ایران : امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، ہر حملے کا جواب دیں گے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے رات تقریباً ڈھائی بجے ایران کے مختلف مقامات پر فضائی حملے شروع کیے، جس کے بعد ایرانی افواج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
ایرانی فوجی قیادت کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکا کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کو ایران کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج ہر قسم کی فوجی جارحیت کا مناسب اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور مستقبل میں بھی کسی بھی حملے کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق جوابی کارروائی کا مقصد امریکی فوجی موجودگی کو واضح پیغام دینا تھا، جبکہ خطے میں مزید کشیدگی کی ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم امریکی حکام نے ایرانی دعوؤں کے تمام پہلوؤں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں سیکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے اور حساس فوجی و توانائی تنصیبات کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات نے خطے میں ایک وسیع تر فوجی تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہی ہے۔
حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریق اپنے مؤقف پر قائم ہیں، جس کے باعث آنے والے دن مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔



