
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران-امریکہ و اسرائیل تنازع کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک "مشن مکمل” نہیں ہو جاتا۔ ماہرین اس بیان کو ایک وسیع اور طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ اب تک ایران میں ہزاروں اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور اس کا مقصد ایران کی دفاعی اور حملہ آور صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار "مشن کی تکمیل” پر ہوگا، نہ کہ کسی مقررہ وقت پر۔
تجزیہ کاروں کے مطابق "مشن مکمل” کی اصطلاح صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ ایران کی قیادت، فوجی ڈھانچے اور اسٹریٹجک صلاحیتوں تک پھیلا ہوا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ایران کے نظام کو کمزور یا تبدیل کرنا بھی ہو سکتا ہے، جو ایک بڑا اور پیچیدہ ہدف ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکمت عملی میں ایران کی فوجی تنصیبات، میزائل پروگرام، ڈرون نیٹ ورک اور کمانڈ سسٹمز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں عالمی تیل کی ترسیل خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے، تاہم ابھی تک بڑے ممالک کی جانب سے واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کے لیے سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع ابھی ختم ہونے سے دور ہے۔
ٹرمپ کا "مشن مکمل” کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کا دائرہ وسیع اور طویل ہو سکتا ہے، جہاں صرف فوجی کامیابی ہی نہیں بلکہ اسٹریٹجک اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔



