ایرانتازہ ترین

ایران میں 16 ہزار سے زائد اہداف پر حملوں کا دعویٰ، امریکا اور اسرائیل کی کارروائیاں تیز،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا اور اسرائیل نے بڑے پیمانے پر حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند ہفتوں کے دوران ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 12 ہزار 300 سے زائد اہداف پر حملے کیے جا چکے ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران 155 سے زیادہ ایرانی بحری اثاثوں کو نقصان پہنچایا گیا یا تباہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان حملوں کا بنیادی ہدف ایران کے سیکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور ان تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے جنہیں فوری خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی ایران کے اندر وسیع پیمانے پر کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اب تک 800 سے زائد فضائی حملے کیے گئے ہیں جن میں 4 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تقریباً 16 ہزار مختلف ہتھیار استعمال کیے گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ہزاروں ایرانی فوجی اور کمانڈرز ہلاک ہوئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ خطاب میں کہا کہ ایران کے خلاف جنگ اپنے اہم اہداف کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور آئندہ مرحلہ نسبتاً آسان ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار ہفتوں میں امریکی افواج نے تیز اور فیصلہ کن کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

تاہم اس جنگ کے دوران ایک اہم پہلو امریکی جانی نقصان سے متعلق بھی سامنے آیا ہے۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں 2023 کے بعد سے اب تک تقریباً 750 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، لیکن امریکی حکام اس حوالے سے مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کر رہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ان نقصانات کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف ایران بھی مسلسل جوابی کارروائیاں کر رہا ہے اور اسرائیل سمیت خطے میں امریکی مفادات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے۔ اگرچہ ان حملوں کا ہدف فوجی تنصیبات بتائی جاتی ہیں، تاہم کئی مواقع پر شہری ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق دونوں جانب سے بڑے پیمانے پر حملوں کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تنازع ایک طویل اور خطرناک جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال یہی رہی تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی سپلائی اور سیکیورٹی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button