
امریکی قیادت کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر ایک بار پھر سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اگر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دی گئی تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس ہوں گے اور ایک خطرناک ایٹمی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
امریکی سینیٹر جے ڈی وینس کے مطابق اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو سعودی عرب بھی فوراً اسی راستے پر چل سکتا ہے، جس کے بعد پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی پہلی ترجیح پابندیوں اور سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ حل کرنا ہے، تاہم اگر یہ راستے ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ ایران میں اصل فیصلے صدر نہیں بلکہ سپریم لیڈر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مذاکرات کا عمل پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ ان کے بقول امریکا حکومت کی تبدیلی کو ایک بہتر آپشن سمجھتا ہے، مگر وہ عراق جیسی طویل، مہنگی اور غیر مقبول جنگ نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے لیے سب سے بڑا سرخ خط یہ ہے کہ ایران یا کسی بھی دہشت گرد گروہ کے ہاتھ جوہری ہتھیار نہ لگیں، کیونکہ یہ عالمی سلامتی کے لیے ناقابلِ قبول خطرہ ہو گا۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے خلاف کہیں زیادہ سخت لہجہ اختیار کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کو دوبارہ جوہری پروگرام شروع کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے مطابق جیسے ہی واشنگٹن کو معلوم ہوا کہ ایران کسی نئی جگہ پر خفیہ طور پر جوہری سرگرمیاں شروع کر رہا ہے، تو امریکا نے واضح پیغام دیا کہ ضرورت پڑنے پر جہاز بھیج کر بمباری کی جائے گی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس واحد راستہ مذاکرات ہیں، ورنہ امریکا ہر طرح کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ماضی میں امریکا نے ایران کے اندر احتجاج کرنے والوں کی حمایت کی تھی، اور اب ایرانی قیادت کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ ان کے بقول ایرانی سپریم لیڈر کو ’’واقعی ڈرنا چاہیے‘‘ کیونکہ اس بار امریکا محض بیانات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ’’کچھ بڑا‘‘ کر سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق امریکی قیادت کے یہ بیانات ایک واضح حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں دباؤ، دھمکی اور سفارتکاری تینوں عناصر شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوری جنگ کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، مگر جوہری پروگرام کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے، اور آنے والے مہینے اس تنازع کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔



