امریکاتازہ ترین

امریکہ میں جدید جنگی ڈرونز کی پیداوار شروع، نیا پلانٹ قائم

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ میں جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دفاعی کمپنی اینڈورِل انڈسٹریز نے اپنے نئے ہائی اسپیڈ جنگی ڈرونز کی پیداوار شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ڈرونز آنے والے دنوں میں اوہائیو میں قائم ایک جدید فیکٹری میں تیار کیے جائیں گے۔

رپورٹس کے مطابق یہ ڈرونز “فیوری” (FURY) کے نام سے تیار کیے جا رہے ہیں، جو امریکی فضائیہ کے “لائل ونگ مین” پروگرام کا حصہ ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد ایسے بغیر پائلٹ طیارے تیار کرنا ہے جو جنگی جہازوں کے ساتھ مل کر کام کر سکیں اور خطرناک مشنز میں انسانی جان کے خطرے کو کم کریں۔

اوہائیو میں قائم اس نئے پلانٹ، جسے “آرسنل-1” کا نام دیا گیا ہے، پر تقریباً ایک ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیکٹری آئندہ دس برسوں میں چار ہزار سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرے گی، جبکہ ابتدائی مرحلے میں رواں سال کے اختتام تک تقریباً 250 افراد کو ملازمت دی جائے گی۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگوں، خاص طور پر یوکرین اور ایران سے متعلق تنازعات میں ڈرون ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال نے دنیا بھر میں بغیر پائلٹ فضائی نظام کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنی فوجی حکمت عملی میں ڈرونز کو مرکزی حیثیت دے رہا ہے۔

اینڈورِل کے حکام کے مطابق ان کا مینوفیکچرنگ ماڈل روایتی دفاعی کمپنیوں سے مختلف ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی کو تیزی سے اور کم لاگت میں تیار کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ امریکی حکومت بھی نئی اور چھوٹی دفاعی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ جدید ہتھیاروں کی تیاری میں رفتار اور جدت لائی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق “لائل ونگ مین” ڈرونز مستقبل کی جنگوں میں اہم کردار ادا کریں گے، جہاں یہ نہ صرف نگرانی بلکہ حملہ آور کارروائیوں میں بھی حصہ لے سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ٹیکنالوجی فضائی جنگ کے انداز کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر جنگی حکمت عملی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جہاں انسانوں کی جگہ خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ہتھیار لے رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button