ایرانترکی

امریکا اسرائیل کا ایران میں حکومت تبدیلی کا خفیہ پلان؟

مسقط/واشنگٹن — سلطنتِ عمان میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے ساتھ ہی واشنگٹن میں ایران کے مستقبل سے متعلق متبادل منظرناموں پر بھی غور شروع ہو گیا ہے۔ اسرائیلی اخبار معاریو (Maariv) اور عرب اخبار دی نیشنل کی رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ سفارتی عمل کے ساتھ ساتھ ایران میں ممکنہ سیاسی تبدیلی کی صورت میں متبادل قیادت اور عبوری انتظامات پر بھی کام کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر پسِ پردہ ایک ایسی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں جو ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں متبادل نظامِ حکومت پر مشاورت کر رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے امریکا میں مقیم بااثر ایرانی نژاد شخصیات، خاص طور پر کاروباری رہنماؤں، سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ عبوری ڈھانچے کی تیاری میں مدد لی جا سکے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا کی اولین ترجیح سفارتکاری ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کے پاس سفارتکاری کے علاوہ بھی کئی آپشنز موجود ہیں۔ ان کے مطابق امریکی مطالبات میں ایران کی ’’صفر جوہری صلاحیت‘‘، بیلسٹک میزائل پروگرام کی حد بندی، خطے میں پراکسی گروپس کی حمایت کا خاتمہ اور ایرانی شہریوں کے ساتھ حکومت کے رویے پر بات چیت شامل ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس تناظر میں خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا میں ایرانی نژاد آبادی کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد ہے، اور ان میں سے بعض حلقے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ انہی میں سابق شاہِ ایران کے صاحبزادے رضا پہلوی بھی شامل ہیں، جو ماضی میں خود کو ’’عبوری رہنما‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی بات کر چکے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ وائٹ ہاؤس کی موجودہ مشاورت میں کس حد تک شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران سے متعلق کئی ممکنہ راستوں پر غور کر رہی ہے، جن میں سفارتی معاہدہ، دباؤ کی پالیسی یا فوجی کارروائی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر منظرنامہ سیاسی خطرات سے جڑا ہوا ہے اور خطے کی غیر یقینی صورتحال ان فیصلوں کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمان میں مذاکرات اگرچہ جاری ہیں، لیکن ان کے ساتھ متوازی طور پر ’’بعد از خامنہ ای‘‘ ایران پر ہونے والی بحث اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن کسی ایک راستے پر انحصار نہیں کرنا چاہتا۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ امریکا سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے یا خطہ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی طرف بڑھتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button