
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )تہران: ایران میں اعلیٰ عبوری قیادت نے ایک اہم اجلاس میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے طریقہ کار اور جاری جنگی صورتحال پر تفصیلی غور کیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق عبوری قیادت کونسل کا اجلاس ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہای اور سینئر مذہبی رہنما آیت اللہ علی رضا اعرافی سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں اس بات پر گفتگو کی گئی کہ مجلس خبرگانِ رہبری (Assembly of Experts) کا اجلاس کس طرح اور کب بلایا جائے، کیونکہ ایران کے آئین کے مطابق یہی ادارہ ملک کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے۔
اجلاس کے بعد جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس میں انہوں نے ایران کے آئندہ رہنما کے انتخاب میں مداخلت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ایرانی قیادت کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات دشمن کے اصل عزائم کو ظاہر کرتے ہیں اور ایرانی عوام کسی بھی بیرونی قوت کو اپنے سیاسی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی قوم اپنے اتحاد اور مزاحمت کے ذریعے امریکی اور صہیونی دباؤ کا مقابلہ کرے گی اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گی۔
اجلاس میں جاری جنگی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے اعلیٰ قیادت کو جنگ کے تازہ حالات اور خطے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ عبوری قیادت نے فیصلہ کیا کہ مسلح افواج کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور انہیں جاری کشیدگی کے دوران مکمل حکومتی حمایت فراہم کی جائے گی۔
حکام نے حکومت کو ہدایت دی کہ جنگی حالات کے باوجود عوام کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جائے تاکہ شہری زندگی متاثر نہ ہو۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے خلاف حملے بند کرنے پر مجبور کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور ملک اپنی خودمختاری، سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
یاد رہے کہ ایران میں یہ عبوری قیادت اس وقت ملک کے امور چلا رہی ہے جب حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک میں قیادت کا خلا پیدا ہو گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔



