ترک گراؤنڈ فورسز چیف کا دورہ پاکستان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ترک بری افواج کے سربراہ کے حالیہ دورۂ پاکستان نے دفاعی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
دورے کے دوران ترک عسکری وفد نے پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی دفاعی تعاون، تربیتی پروگراموں اور دفاعی صنعت میں شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک دفاعی ٹیکنالوجی اور جدید عسکری منصوبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
پاکستان اور ترکی گزشتہ چند برسوں کے دوران دفاعی پیداوار کے متعدد منصوبوں میں ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ دونوں ممالک بحری دفاع، ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل سسٹمز اور جدید فضائی پلیٹ فارمز کے شعبوں میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ شراکت داری دونوں ممالک کی مقامی دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے بڑھتے ہوئے عسکری روابط نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنا رہے ہیں بلکہ خطے میں دفاعی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک متعدد بین الاقوامی اور علاقائی فورمز پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی اور علاقائی سکیورٹی ماحول میں دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ تربیت اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں تعاون مستقبل میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کو خطے کی اہم دفاعی پیش رفتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات صرف عسکری شعبے تک محدود نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، سفارت کاری اور تکنیکی تعاون کے میدانوں میں بھی مسلسل فروغ پا رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔



