امریکا

ایران نے جہازوں پر ڈرون حملہ کر دیا

مشرقِ وسطیٰ کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض بحری جہازوں کو ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس کے بعد امریکی افواج نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

سینٹکام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی بحری اور فضائی افواج خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے متحرک ہیں اور آبنائے ہرمز سے تجارتی و دیگر بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس آبی راستے کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل اور گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

تاحال ایران کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حالیہ مہینوں میں خلیجی پانیوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بین الاقوامی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button