
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں نئی بے چینی پیدا ہو گئی ہے اور ایشیائی ممالک کو فیول آئل کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجروں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق ایران سے متعلق جاری جنگی صورتحال کے سبب خلیج سے ایشیا جانے والی تیل کی ترسیل نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے راستے فیول آئل کی ترسیل میں بڑی کمی آئی ہے، جس کے باعث ایشیائی منڈیوں میں متبادل سپلائی تلاش کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو آنے والے ہفتوں میں ایشیا میں جہازوں کے ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
توانائی کے تجزیاتی اداروں کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ہائی سلفر فیول آئل کی قیمتیں سنگاپور میں تقریباً 40 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ یہ ایندھن زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے اور اسے بحری جہازوں کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق عام حالات میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ہر ماہ تقریباً 12 لاکھ میٹرک ٹن فیول آئل ایشیا بھیجا جاتا ہے۔ تاہم جنگی خطرات اور جہاز رانی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث ٹینکرز کی آمدورفت میں تقریباً 90 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال کا براہ راست اثر عالمی تجارت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ جہازوں کے ایندھن کی قیمت بڑھنے سے شپنگ کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا، جس کا اثر بالآخر سامان کی ترسیل کی لاگت اور عالمی منڈیوں میں اشیاء کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایشیائی خریدار اب یورپ اور دیگر مغربی ممالک سے فیول آئل کی سپلائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ تاہم طویل فاصلے کی وجہ سے یہ سپلائی مہنگی پڑ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی طویل ہوتی ہے تو عالمی توانائی منڈیوں میں مزید اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔



