ایرانتازہ ترین

ایران جنگ میں امریکی فوج کو مزید نقصان، ہلاک اہلکاروں کی تعداد سات ہو گئی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران امریکی فوج کو مزید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ایران کی ابتدائی جوابی کارروائیوں میں زخمی ہونے والا ایک اور امریکی فوجی دم توڑ گیا ہے، جس کے بعد اس جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے۔

امریکی فوج کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اہلکار یکم مارچ کو سعودی عرب میں امریکی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے دوران شدید زخمی ہوا تھا۔ اسے فوری طبی امداد فراہم کی گئی تھی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گزشتہ شب ہلاک ہو گیا۔

اہلکار کی شناخت خفیہ رکھی گئی

CENTCOM نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت فی الحال ظاہر نہیں کی جائے گی۔ امریکی فوجی ضابطوں کے مطابق اہلکار کی شناخت اس وقت تک ظاہر نہیں کی جاتی جب تک اس کے اہلِ خانہ کو باضابطہ طور پر اطلاع نہ دے دی جائے۔

کویت میں ایک اور واقعہ

اسی دوران امریکی فوج نے یہ بھی بتایا کہ کویت میں تعینات ایک نیشنل گارڈ کے فوجی کی بھی 6 مارچ کو طبی ہنگامی صورتحال کے دوران موت واقع ہوئی۔ حکام کے مطابق اس واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

پہلے بھی چھ امریکی فوجی ہلاک

اس سے قبل امریکی حکام تصدیق کر چکے ہیں کہ ایران کے ایک ڈرون حملے میں کویت میں تعینات امریکی آرمی ریزرو کے چھ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ حملہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں کیا گیا تھا۔

ایران کے دعوؤں کی تردید

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے جنگ کے دوران چند امریکی فوجیوں کو قیدی بنا لیا ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں "جھوٹ اور پروپیگنڈا” قرار دیا ہے۔

CENTCOM کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اس طرح کے دعوے حقیقت کے منافی ہیں اور ان کا مقصد جنگی صورتحال میں غلط معلومات پھیلانا ہے۔

جنگی صورتحال بدستور کشیدہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے مسلسل حملوں کے خطرے سے دوچار ہیں جبکہ دونوں جانب سے فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو خطے میں مزید جانی نقصان اور فوجی تصادم کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button