
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل سے تعلق رکھنے والی یا اس کے ساتھ کام کرنے والی چند بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے دفاتر اور انفراسٹرکچر کو ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام خطے میں جاری جنگ کے پھیلتے ہوئے دائرے اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے خدشات کی نشاندہی کرتا ہے۔
تسنیم کی جانب سے شائع کردہ معلومات میں کہا گیا ہے کہ بعض عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی خدمات اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی اسرائیلی دفاعی یا سیکیورٹی نظام میں استعمال ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اسی بنیاد پر ان کمپنیوں سے وابستہ دفاتر اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ممکنہ اہداف کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں جن کمپنیوں کے نام سامنے آئے ہیں ان میں گوگل، مائیکروسافٹ، پالانٹیر، آئی بی ایم، اینویڈیا اور اوریکل شامل ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کے کچھ دفاتر اور کلاؤڈ سروس انفراسٹرکچر اسرائیل کے مختلف شہروں کے علاوہ خلیجی ممالک کے چند مقامات پر بھی موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگر علاقائی تنازع مزید وسیع ہوتا ہے تو جنگ صرف روایتی فوجی اہداف تک محدود نہیں رہے گی بلکہ انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل نیٹ ورک اور ٹیکنالوجی سسٹمز بھی اس کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔
تاہم اس حوالے سے مذکورہ کمپنیوں یا دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دفاعی اور سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی اہمیت بڑھنے کے باعث ایسے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اگر ٹیکنالوجی کمپنیوں یا ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے بلکہ عالمی ٹیکنالوجی نیٹ ورک اور ڈیجیٹل معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



