
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں جاری ایران-اسرائیل کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں حالیہ حملوں، بیانات اور سفارتی سرگرمیوں نے خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اسرائیل کے خضیرہ پاور پلانٹ پر ایرانی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جو ملک کے اہم ترین توانائی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اس پلانٹ کی پیداواری صلاحیت ہزاروں میگاواٹ بتائی جاتی ہے اور یہ پانی کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، جس کے باعث اس پر حملہ ایک اسٹریٹیجک پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تل ابیب میں بھی صورتحال کشیدہ رہی، جہاں مختصر وقت میں متعدد میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں۔ بن گوریون ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا، جبکہ شہر میں خوف و ہراس کی فضا دیکھنے میں آئی۔ بعض غیر مصدقہ دعوؤں میں غیر معمولی قدرتی مظاہر کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے روس اور ایران کے درمیان ممکنہ سپلائی رابطوں کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جس سے تنازع کے دائرہ کار میں مزید وسعت آ سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی اتحادیوں کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ ممالک امریکا کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں شامل ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادھر سفارتی محاذ پر بھی اختلافات برقرار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے بعض امریکی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے اور مذاکراتی عمل میں تبدیلی کی بات کی جا رہی ہے۔ اسی دوران ممکنہ جنگ بندی اور مذاکرات کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی زیر گردش ہیں۔

لبنان کے حوالے سے بھی کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں اسرائیلی کارروائیوں میں وسعت کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ یورپی رہنماؤں کی جانب سے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ کچھ حلقوں نے جنگ کے پھیلاؤ کو خطے کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی ممکنہ شرائط بھی سامنے آئی ہیں، جن میں پابندیوں کا خاتمہ، حملوں کی بندش اور دفاعی پروگرام کو برقرار رکھنے جیسے مطالبات شامل بتائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ شرائط کسی بھی ممکنہ معاہدے کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اطلاعات کا بہاؤ تیز ہے، تاہم تمام دعوؤں کی تصدیق یکساں طور پر ممکن نہیں۔ اس لیے زمینی حقائق اور سفارتی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔
موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ ایک بڑے علاقائی تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی بیانات اور عالمی طاقتوں کی مداخلت اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔



