
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کے چوتھے روز بھی آبنائے ہرمز میں صورتحال بدستور غیر واضح اور کشیدہ ہے، جہاں محدود حد تک بحری آمد و رفت جاری ہونے کے باوجود سینکڑوں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہاز تاحال خطے میں پھنسے ہوئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ناکہ بندی کے اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایران نے بھی ردعمل میں خطے کی اہم بحری گزرگاہوں، خصوصاً بحیرہ احمر میں جہاز رانی متاثر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، تاہم اس کے باوجود 800 سے زائد ٹینکرز اب بھی خلیجی پانیوں میں رکے ہوئے ہیں۔ دیگر ڈیٹا کے مطابق کم از کم 426 خام تیل کے ٹینکرز اور درجنوں ایل این جی بردار جہاز متاثرہ علاقے میں موجود ہیں، جس سے سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہے۔

جہازوں کی ٹریکنگ کرنے والی کمپنیوں کے مطابق چند ایرانی یا ایران سے منسلک جہاز محدود پیمانے پر گزرنے میں کامیاب ہوئے، لیکن مجموعی صورتحال میں واضح بہتری نہیں آئی۔ بعض جہازوں کو راستے تبدیل کرنے یا انتظار کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس سے ترسیل میں تاخیر اور اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کا تیل اور گیس گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں پر پڑتے ہیں، جس سے قیمتوں میں اضافہ اور توانائی بحران کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہوگی بلکہ عالمی تجارت، فضائی سفر اور صنعتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری اس صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔



