
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر جاری سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق امریکی افواج خطے میں مکمل تیاری کے ساتھ موجود ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال میں فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ بیک ڈور اور براہِ راست سفارتی رابطوں کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع جلد ختم ہو سکتا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان اگلا اہم مذاکراتی دور اسی ہفتے کے اختتام پر متوقع ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی بیانات ایک دوہری حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ایک جانب ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے فوجی طاقت کا عندیہ دیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔ اس حکمت عملی کو اکثر "پریشر اینڈ ڈپلومیسی” کہا جاتا ہے، جس کا مقصد مخالف فریق کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوتا ہے۔

ادھر خطے میں امریکی بحری اور فضائی سرگرمیوں میں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں سیکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے۔ توانائی کی عالمی سپلائی کے لیے اہم ان بحری راستوں میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے اب تک ان بیانات پر براہِ راست ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایرانی حکام اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کریں گے۔ دوسری جانب یورپی اور علاقائی ممالک بھی دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر مذاکراتی عمل میں پیش رفت ہوتی ہے تو خطے میں استحکام کی امید پیدا ہو سکتی ہے، لیکن اگر بات چیت ناکام ہوئی تو نہ صرف فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں۔



