
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر Donald Trump نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی کو مزید بڑھا دیا گیا ہے، اور یہ اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایرانی حکام مذاکرات کے لیے ایک “متفقہ اور واضح تجویز” پیش نہیں کرتے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ ایرانی حکومت اندرونی اختلافات کا شکار ہے اور ایک متحد مؤقف پیش کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس فیصلے میں پاکستان کے حکام کی درخواست کو بھی مدنظر رکھا گیا۔
امریکی صدر کے مطابق جنگ بندی میں توسیع کے باوجود آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی، جو خطے میں کشیدگی کا ایک اہم سبب بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ناکہ بندی عالمی تیل کی ترسیل اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے سفارتی عمل میں مزید پیچیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے “وقت حاصل کرنے کی چال” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع درحقیقت کسی ممکنہ اچانک حملے کی تیاری ہو سکتی ہے، اور اس کا کوئی حقیقی مطلب نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر جاری امریکی دباؤ کو بمباری کے مترادف سمجھا جانا چاہیے اور ایران کو اس کے جواب میں عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان یہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اہمیت اختیار کر چکی ہے، جہاں سفارتی کوششیں جاری ہیں مگر دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان واضح دکھائی دیتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی کشیدگی، توانائی بحران اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، اور کسی بھی نئی پیش رفت کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



