
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے ساتھ جنگ بندی نافذ ہونے سے قبل آخری 24 گھنٹوں میں اس نے حزب اللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں، جن میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں جنگجو مارے گئے اور متعدد اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
فوجی بیان کے مطابق ان حملوں میں تقریباً 150 سے زائد جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ 300 کے قریب اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں راکٹ لانچرز، کمانڈ سینٹرز اور اسلحہ کے ذخائر شامل تھے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں کی گئیں، جہاں حالیہ دنوں میں شدید جھڑپیں جاری تھیں۔

اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر علی رضا عباس بھی مارے گئے، جو جنوبی لبنان کے شہر بنت جبیل میں تنظیم کی سرگرمیوں کی قیادت کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر سینئر کمانڈرز کی ہلاکت کی بھی اطلاعات دی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بنت جبیل حزب اللہ کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک مقام سمجھا جاتا ہے، جہاں اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے قبل اس نوعیت کی کارروائیاں عموماً میدان میں برتری حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، تاہم اس سے قبل کی شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں جانب کشیدگی کس حد تک بڑھ چکی تھی، اور مستقبل میں اس کے اثرات خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔



