امریکاتازہ ترین

امریکی سینیٹ نے پانچویں بار ایران جنگ روکنے کی قرارداد مسترد کر دی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

United States Senate نے ایک بار پھر ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو روکنے کی قرارداد مسترد کر دی ہے، جس سے صدر Donald Trump کی پالیسیوں کو مضبوط سیاسی حمایت ملتی دکھائی دے رہی ہے۔

بدھ کے روز ہونے والی ووٹنگ میں 51 سینیٹرز نے قرارداد کے خلاف جبکہ 46 نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس فیصلے کو رواں سال میں پانچویں مرتبہ ایسا اقدام قرار دیا جا رہا ہے جب سینیٹ نے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے بجائے وائٹ ہاؤس کو کھلی چھوٹ دی۔

مجوزہ قرارداد کے تحت امریکا کو ایران کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں سے دستبردار ہونا پڑتا اور آئندہ کسی بھی فوجی اقدام کے لیے کانگریس کی واضح منظوری لازمی قرار دی جاتی۔ تاہم ریپبلکن ارکان کی اکثریت نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے صدر کے اختیار کو برقرار رکھا۔

ڈیموکریٹک رہنما Chuck Schumer نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جنگ کا تسلسل امریکا کو مزید پیچیدہ صورتحال میں دھکیل سکتا ہے۔ ان کے مطابق جتنا زیادہ وقت گزرے گا، اس تنازع سے نکلنا اتنا ہی مشکل ہو جائے گا۔

دوسری جانب سینیٹ میں ریپبلکن قیادت کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری خطرہ بننے سے روکنا ضروری ہے۔ سینیٹ کے اکثریتی رہنما John Thune نے صدر ٹرمپ کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پالیسی عالمی سلامتی کے لیے اہم ہے۔

حالیہ عوامی جائزوں کے مطابق امریکی عوام اس معاملے پر منقسم نظر آتے ہیں۔ ایک سروے میں جہاں مجموعی طور پر اکثریت نے ایران پر فوجی حملوں کی مخالفت کی، وہیں ریپبلکن ووٹرز کی بڑی تعداد اس کی حمایت کرتی دکھائی دی، جو امریکی سیاست میں گہری تقسیم کی نشاندہی کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف امریکا کی داخلی سیاست بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جہاں ہر نیا فیصلہ خطے کے توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button