
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے خلاف کسی بھی حملے یا دھمکی کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے میدانِ عمل میں ناکامیوں کے باوجود ایران کے عزم اور استقامت کو آزمانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا مناسب جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

عباس عراقچی نے امریکا اور دیگر بیرونی طاقتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنی سلامتی چاہتے ہیں تو خطے سے دور رہیں۔ ان کے مطابق خلیج فارس کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ خطے میں مداخلت کرنے والی بیرونی قوتوں کو ماضی میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں، جوابی حملوں اور سخت سفارتی بیانات نے خطے میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خلیجی ممالک بھی دفاعی تیاریوں اور سیکیورٹی اقدامات میں اضافہ کر رہے ہیں جبکہ عالمی برادری دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان صرف سفارتی ردعمل نہیں بلکہ ایک واضح دفاعی پیغام بھی ہے، جس کا مقصد ایران کے مؤقف اور عسکری عزم کو اجاگر کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔



