(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا اور برطانیہ نے خلا میں ممکنہ روسی جوہری خطرات کے پیشِ نظر اپنی مشترکہ دفاعی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر خلا جنگ کا میدان بن گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا کے شہری نظام پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکی فوج کے خلائی کمانڈ کے سربراہ Stephen Whiting نے ایک اہم خطاب میں کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے باعث مغربی ممالک کو اپنی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی، خاص طور پر اس وقت جب بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ زمین سے بڑھ کر خلا تک پہنچ رہا ہے۔
حکام کے مطابق، حالیہ دنوں میں امریکا اور اس کے اتحادیوں، جن میں برطانیہ بھی شامل ہے، نے ایک خصوصی فوجی مشق (وار گیم) میں حصہ لیا، جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ اگر روس خلا میں جوہری ہتھیاروں کے ذریعے سیٹلائٹس کو نشانہ بنائے تو اس کا جواب کیسے دیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے عالمی مواصلاتی نظام، جی پی ایس، بینکاری نیٹ ورکس اور دفاعی نظام کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، امریکا کو پہلے ہی شبہ ہے کہ روس نے خلا میں ایسا نظام تعینات کیا ہے جو دیگر سیٹلائٹس کی نگرانی اور ممکنہ طور پر انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت نے مغربی دنیا میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ سیٹلائٹس پر انحصار جدید معیشت اور سکیورٹی کا بنیادی حصہ بن چکا ہے۔
جنرل اسٹیفن وائٹنگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کی جانب سے خلائی ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی، جیسے مدار میں ایندھن کی فراہمی اور لاجسٹک صلاحیتیں، اس مقابلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ان کے مطابق، مستقبل کے ممکنہ تنازعات میں برتری حاصل کرنے کے لیے “مینوور وارفیئر” یعنی متحرک اور لچکدار حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ نہ صرف بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے ایک نیا اور خطرناک محاذ بھی کھول سکتی ہے، جہاں کسی بھی غلط قدم کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔