امریکاتازہ ترین

یو اے ای کو امریکی کرنسی سواپ کیوں درکار؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

متحدہ عرب امارات کی جانب سے امریکا کے ساتھ ممکنہ “کرنسی سواپ” معاہدے میں دلچسپی نے عالمی مالیاتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ یہ ملک پہلے ہی دنیا کی مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کے پاس کھربوں ڈالر کے اثاثے موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں عندیہ دیا کہ واشنگٹن متحدہ عرب امارات کی مدد کے لیے کرنسی سواپ پر غور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق یو اے ای امریکا کا قریبی اتحادی ہے اور حالیہ کشیدگی کے دوران اسے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث مالی تعاون کے امکانات زیرِ غور آئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یو اے ای کے مرکزی بینک نے امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کر کے کرنسی ایکسچینج لائن کے قیام پر بات چیت کی ہے۔ اس طرح کے معاہدے عام طور پر مالی دباؤ کے وقت کرنسی کی قدر کو مستحکم رکھنے اور لیکویڈیٹی فراہم کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔

تاہم یو اے ای کے امریکا میں سفیر یوسف العتیبہ نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ ملک کو کسی مالی بحران کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے پاس تقریباً 20 کھرب ڈالر کے خودمختار فنڈز، 300 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر اور بینکنگ نظام میں کھربوں ڈالر کے ڈپازٹس موجود ہیں، جو اس کی مضبوط مالی پوزیشن کو ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یو اے ای کی جانب سے کرنسی سواپ میں دلچسپی دراصل کسی فوری بحران کی نشاندہی نہیں بلکہ ایک احتیاطی اقدام ہو سکتا ہے، جس کا مقصد عالمی غیر یقینی صورتحال میں مالی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ نے ایسے اقدامات کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاہدے سے یو اے ای کو ہنگامی حالات میں ڈالر تک فوری رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ مالی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت عالمی مالیاتی نظام میں بدلتے رجحانات اور ممالک کی جانب سے پیشگی حفاظتی حکمت عملی اپنانے کی عکاسی کرتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button