ایرانتازہ ترین

ایران میں 35 جاسوس دہشت گرد پکڑے گئے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے ایک مبینہ "صہیونی جاسوس نیٹ ورک” اور کئی شدت پسند گروہوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس کے مطابق یہ کارروائیاں چھ صوبوں میں کی گئیں، جہاں سے مجموعی طور پر 35 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں شدت پسند عناصر، علیحدگی پسند اور اسلحہ اسمگلنگ میں ملوث افراد شامل ہیں، جن کے روابط مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور دیگر غیر ملکی نیٹ ورکس سے جوڑے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایک اہم گرفتاری اس گروہ کے مبینہ سربراہ کی ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ صوبہ خوزستان میں علیحدگی کی تحریک چلانے اور بم دھماکوں و ٹارگٹ کلنگ جیسے حملوں میں ملوث تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے سیکیورٹی اہلکاروں اور بسیج فورس کے ارکان کو نشانہ بنایا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران اسی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے مزید افراد کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، جن میں متعدد گرفتاریاں اور کچھ ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔

حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مختلف صوبوں میں ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جو مبینہ طور پر "میڈیا نیٹ ورک” کے ذریعے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں سے کئی افراد جنوبی اور مغربی ایران کے علاقوں سے پکڑے گئے۔

اسی دوران سیکیورٹی فورسز نے چند چھوٹے گروہوں کو بھی حراست میں لیا، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ تیار کرنے یا منتقل کرنے میں ملوث تھے۔ حکام کے مطابق کچھ مقامات سے دیسی ساختہ بم، اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں اسلحہ اسمگلنگ کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئیں، جہاں عراق کے کردستان کے راستے ہتھیار لانے کی کوشش ناکام بنائی گئی۔ ان کارروائیوں میں درجنوں ہتھیار ضبط کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران میں اس نوعیت کی کارروائیاں اکثر علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آتی ہیں، جہاں حکومت اندرونی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور بیرونی خطرات کے خلاف سخت موقف اپنانے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق عام طور پر مشکل ہوتی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایران، اسرائیل اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ اپنی جگہ برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس طرح کی کارروائیاں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر مزید اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button