ایرانتازہ ترین

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود 20 سے زائد جہاز گزر گئے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

عالمی توانائی کے اہم ترین بحری راستے آبنائے ہرمز سے ہفتے کے روز 20 سے زائد جہازوں کا گزرنا ریکارڈ کیا گیا، جو مارچ کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات بدستور موجود ہیں۔

شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق ان جہازوں میں تیل، مائع گیس (LPG)، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر سامان لے جانے والے ٹینکرز شامل تھے، جو ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک کی جانب روانہ ہوئے۔ کچھ جہاز ایران سے لوڈ ہونے والے کارگو کے ساتھ بھی اس راستے سے گزرے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محدود خطرات کے باوجود تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کئی بڑے آئل ٹینکرز سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین سے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات لے کر چین، بھارت، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کی طرف روانہ ہوئے۔ اس کے علاوہ قطر سے کھاد اور دیگر مصنوعات بھی اسی راستے سے منتقل کی گئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بحری آمدورفت میں یہ اضافہ عالمی منڈیوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ آبنائے ہرمز میں حالیہ دنوں میں بارودی سرنگوں، فوجی سرگرمیوں اور جہازوں پر حملوں کے خدشات کے باعث شپنگ کمپنیاں اب بھی محتاط حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بحری راستہ عالمی تیل سپلائی کا ایک بڑا حصہ سنبھالتا ہے، اس لیے یہاں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تاہم موجودہ کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی وقت صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات براہ راست توانائی کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button