امریکاتازہ ترین

امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی جہاز گزرنے میں کامیاب،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی بحری ناکہ بندی کی مؤثریت ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئی ہے، کیونکہ تازہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی ایرانی یا ایران سے منسلک جہاز اس پابندی کو عبور کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

بین الاقوامی شپنگ ذرائع اور تجزیہ کاروں کے مطابق ناکہ بندی کے آغاز کے بعد کم از کم 20 سے زائد جہاز ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے یا وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جن میں خام تیل اور گیس لے جانے والے ٹینکر بھی شامل ہیں۔ اس پیش رفت نے اس دعوے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ آیا امریکہ واقعی مکمل بحری کنٹرول قائم کر پایا ہے یا نہیں۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ انہوں نے متعدد جہازوں کو روکا، تلاشی لی اور کچھ کو واپس بھیجا، جبکہ دیگر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ وسیع سمندری حدود، مختلف جھنڈوں کے تحت چلنے والے جہاز اور پیچیدہ تجارتی نیٹ ورکس اس طرح کی ناکہ بندی کو مکمل طور پر مؤثر بنانا مشکل بنا دیتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اپنی نام نہاد “شیڈو فلیٹ” کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں پرانے یا رجسٹری تبدیل شدہ جہاز استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ پابندیوں سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ متبادل سمندری راستوں اور خفیہ ٹرانسفر طریقوں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ناکہ بندی کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حکمت عملی کو مکمل طور پر نافذ کرنا نہایت پیچیدہ اور چیلنجنگ عمل ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو نہ صرف امریکہ کی پالیسی کی مؤثریت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تیل کی ترسیل، توانائی کی قیمتوں اور خطے کے سیکیورٹی حالات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button