
امریکی سیاسی مبصر اور سابق ٹی وی میزبان ٹکر کارلسن نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پسند کیا جائے یا نہیں، ایران اس وقت فلسطینیوں اور لبنان کے عوام کی حمایت میں نمایاں کردار ادا کرنے والا واحد ملک دکھائی دیتا ہے۔
اپنے بیان میں کارلسن کا کہنا تھا کہ غزہ اور خطے میں جاری کشیدگی کے مناظر پوری دنیا دیکھ رہی ہے، تاہم ان کے بقول بیشتر ممالک عملی طور پر کوئی مؤثر اقدام کرتے نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے عوام خطے میں انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی سطح پر ردعمل اور اقدامات کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
ٹکر کارلسن کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ غزہ کی جنگ، لبنان کی سرحدی صورتحال اور ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی سفارتی و عسکری تناؤ نے خطے کے مستقبل کے بارے میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، فلسطینی گروپوں اور لبنان میں اپنے اتحادیوں کی حمایت کو اپنی علاقائی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ اس کے ناقدین اس کردار کو خطے میں طاقت کے توازن اور جغرافیائی سیاسی مفادات سے جوڑتے ہیں۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
کارلسن کے بیان نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں بعض افراد نے ان کے مؤقف کی حمایت کی جبکہ دیگر نے اسے متنازع قرار دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال کے باعث مختلف فریقین کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میں عالمی سطح پر آراء میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔



