
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکی میں تعینات امریکی سفیر ٹام بیراک کے حالیہ بیانات نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، سفارتکاری اور طاقت کے توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے خطے کے پیچیدہ حالات پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں محض فوجی کارروائیوں کے ذریعے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے، بلکہ پائیدار استحکام کے لیے معاشی ترقی اور سماجی مضبوطی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
ان کے مطابق اگر کوئی خودمختار ملک کسی ملیشیا کی حمایت کرتا ہے تو صرف طاقت کے استعمال سے اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ فرد، خاندان، قبیلے اور معاشرے کی سطح پر خوشحالی کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہی سوچ اب علاقائی پالیسیوں کا حصہ بنتی جا رہی ہے اور مستقبل میں "ابراہیم معاہدے” جیسے اقدامات ہی خطے میں امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
ٹام بیراک نے شام کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسے ایک "تجربہ” قرار دیا، جہاں ترکی کے ساتھ مل کر ایک نیا ماڈل آزمایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام نے اسرائیل کے خلاف براہِ راست محاذ آرائی سے گریز کیا ہے اور بارہا مذاکرات کی پیشکش کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کشیدگی کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ مستقبل میں شام اور اسرائیل کے درمیان عدم جارحیت یا تعلقات کی بحالی کا معاہدہ لبنان سے پہلے ممکن ہو سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسرائیل کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات سرحدوں اور علاقائی حدود کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جبکہ خطے میں مختلف قومیتی اور مذہبی گروہوں کو اپنے بیانیے کے مطابق پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیانیے خطے میں بداعتمادی کو بڑھاتے ہیں۔
بیراک نے خطے کی مجموعی سیاسی ساخت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہی نظام زیادہ مؤثر ثابت ہوئے ہیں جہاں مضبوط قیادت موجود ہے۔ ان کے مطابق عرب اسپرنگ کے بعد جمہوریت کے تجربات زیادہ کامیاب نہیں ہو سکے اور کئی ممالک میں عدم استحکام پیدا ہوا۔ تاہم ان کے اس مؤقف کو بعض حلقے متنازع بھی قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ جمہوری اصولوں کے برعکس سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس خطے میں طاقت کا اظہار ایک اہم عنصر ہے، کیونکہ یہاں کمزوری کو اکثر عدم استحکام کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق شام کی مثال اس حوالے سے دی جا سکتی ہے جہاں مضبوط قیادت نے حالات کو کسی حد تک قابو میں رکھا۔
ترکی کے کردار پر بات کرتے ہوئے امریکی سفیر نے اسے خطے کی واحد مضبوط اور فعال معیشت قرار دیا اور کہا کہ ترکی نہ صرف ایک اہم ریاست ہے بلکہ علاقائی توازن میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ مستقبل میں اسرائیل، ترکی، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے درمیان تعاون بڑھ سکتا ہے، جو خطے میں معاشی ترقی اور استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
بیراک نے ایک دلچسپ نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور ترکی ایک دوسرے کو توسیع پسند قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی میڈیا میں ترکی کو "عثمانی سلطنت 2.0” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ترکی میں بعض حلقے "گریٹر اسرائیل” کے تصور پر بات کرتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں اطراف میں بیانیہ سازی جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر کے یہ بیانات نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی کے ممکنہ رخ کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ آنے والے وقت میں مشرقِ وسطیٰ میں نئے اتحاد، سفارتی کوششیں اور طاقت کا نیا توازن دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ تاہم ان خیالات پر عالمی سطح پر بحث اور اختلاف رائے بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔



