
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
جنوبی لبنان میں ایک متنازع واقعے کے بعد اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر کی تصدیق کر دی ہے، جس میں ایک فوجی کو حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو نقصان پہنچاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر ردعمل کو جنم دیا اور خاص طور پر مسیحی برادری میں تشویش پائی گئی۔
آئی ڈی ایف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ واقعہ واقعی پیش آیا اور اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ فوج کے مطابق اس طرح کا طرزِ عمل ان کے پیشہ ورانہ اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے، اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈیون ساعر نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "سنگین اور شرمناک” قرار دیا اور ان تمام افراد سے معذرت کی جن کے جذبات کو اس سے ٹھیس پہنچی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے واقعات ناقابلِ قبول ہیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
فوجی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شمالی کمان کے ذریعے کی جا رہی ہیں اور نتائج کی روشنی میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متاثرہ مقام پر مجسمے کی بحالی میں مقامی کمیونٹی کی مدد کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے واقعات نہ صرف مقامی سطح پر حساسیت پیدا کرتے ہیں بلکہ مذہبی ہم آہنگی اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے۔



