
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے پڑوسی ممالک کے ساتھ براہِ راست تنازع نہیں چاہتا اور اس کی فوجی کارروائیاں صرف ان مقامات تک محدود ہیں جہاں سے ایران کے خلاف حملے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت کارروائیاں کر رہا ہے۔
ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ بعض دشمن قوتوں نے خطے کے مختلف علاقوں کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ان حملوں میں ایران کے اندر اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بھی نقصان پہنچا۔
پزشکیان نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری اس جنگ کے اسباب اور اس کے پس منظر پر توجہ نہیں دیتی تو اس کے اثرات عالمی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانا نہیں چاہتا بلکہ علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر سلامتی اور استحکام کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایک ٹی وی خطاب میں ایرانی صدر نے پڑوسی ممالک سے معذرت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ان ممالک کی سرزمین سے ایران کے خلاف حملے نہ کیے جائیں تو ایران بھی اپنی کارروائیاں روکنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران کا مقصد جنگ کا دائرہ وسیع کرنا نہیں بلکہ دفاعی ردعمل دینا ہے۔
تاہم ان بیانات کے باوجود حالیہ دنوں میں خلیجی خطے کے بعض ممالک میں ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں جانی و مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ متاثرہ ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خلیجی تعاون کونسل (GCC) کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس میں ایران کے ان حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق متعدد ممالک اس قرارداد کی حمایت کر سکتے ہیں۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔



