
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بڑے معاہدے تک پہنچنا چند دنوں کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے لیے مزید وقت اور سنجیدہ مذاکرات درکار ہوں گے۔ ان کے مطابق اب تک ہونے والی بات چیت میں دونوں فریقین نے مثبت پیش رفت دکھائی ہے، تاہم حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ موجودہ جنگ بندی کو کم از کم 45 سے 60 دن تک بڑھایا جانا چاہیے تاکہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مناسب وقت مل سکے اور خطے میں کشیدگی کو قابو میں رکھا جا سکے۔
ہاکان فیدان نے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے شام پر ممکنہ حملے ترکی کے لیے ایک اہم سیکیورٹی چیلنج بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی منظرنامے کے لیے تیار رہنا ضروری ہے، کیونکہ خطے میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ دونوں ہی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے اور دونوں اس کے خواہاں بھی ہیں، لیکن ان کے بقول اسرائیل اس عمل میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ فیدان نے زور دیا کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو اس کی ذمہ داری بھی واضح ہونی چاہیے۔
ترک وزیر خارجہ نے ایران پر زور دیا کہ وہ امریکی تجاویز کا مثبت جواب دے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی پیدا نہ ہو اور اسرائیل کو کسی نئی فوجی کارروائی کا موقع نہ ملے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ترکی کا یہ مؤقف خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی عکاسی کرتا ہے، جہاں انقرہ خود کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کا تسلسل برقرار رہا تو مشرق وسطیٰ میں کسی بڑے تصادم کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے، تاہم صورتحال اب بھی نہایت حساس ہے اور کسی بھی وقت نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔



