مدینہ منورہ کے قریب تاریخی دریافت، حضرت عمرؓ کے دور اور قومِ ثمود کے سیکڑوں آثار سامنے آگئے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
سعودی عرب کے علاقے المہد میں آثارِ قدیمہ کی ایک اہم دریافت سامنے آئی ہے، جہاں ماہرین نے مختلف تاریخی ادوار سے تعلق رکھنے والے 1,774 قدیم آثار اور نقوش دریافت کیے ہیں۔ ان دریافتوں میں خلافتِ راشدہ کے دور، بالخصوص حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے سے منسوب سینکڑوں تاریخی نقوش بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دریافت ہونے والے آثار میں 461 ایسے نقوش شامل ہیں جن کا تعلق اسلامی دورِ آغاز اور حضرت عمرؓ کے عہد سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 2,500 سال قدیم قومِ ثمود کے دور کے 34 آثار بھی ملے ہیں، جو جزیرہ نما عرب کی قدیم تہذیبوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ المہد کا علاقہ تاریخی اعتبار سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ مقام مدینہ منورہ سے تقریباً 150 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے اور صدیوں تک جنوب اور شمال عرب کو ملانے والے تجارتی اور سفری راستوں کا اہم مرکز رہا ہے۔

تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ثمودی، نبطی اور بعد ازاں اسلامی ادوار میں قافلے اس علاقے میں قیام کرتے اور سفر کے دوران اسے ایک اہم پڑاؤ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مختلف زمانوں کے نقوش، تحریریں اور آثار ایک ہی مقام پر دریافت ہوئے ہیں۔
آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق یہ دریافت نہ صرف سعودی عرب کی تاریخی وراثت کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ عرب خطے میں انسانی آبادی، تجارتی راستوں اور تہذیبی ارتقا کے بارے میں نئی معلومات بھی فراہم کر سکتی ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں اب ان نقوش اور آثار کا مزید تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں تاکہ ان کی درست تاریخ اور تاریخی اہمیت کا تعین کیا جا سکے۔
یہ دریافت اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح کے علاقے صرف اسلامی تاریخ ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں قدیم تہذیبوں کے بھی اہم مراکز رہے ہیں، جن کے آثار آج بھی خطے کے شاندار ماضی کی گواہی دے رہے ہیں۔



