
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے حالیہ بیانات میں عالمی سیاست، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ترکی کی دفاعی پیشرفت پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے موجودہ عالمی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 سال قبل قائم کیا گیا عالمی ڈھانچہ اب اپنی افادیت کھو چکا ہے اور آج یہ ایک سنجیدہ قانونی و اخلاقی بحران کا شکار نظر آتا ہے، جہاں طاقت اور جنگ نے مکالمے اور سفارتکاری کی جگہ لے لی ہے۔
صدر اردوان نے زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ خطے کے ممالک خود فیصلہ سازی میں مرکزی کردار ادا کریں، ورنہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے قبرص میں بعض یورپی ممالک کی فوجی موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترک صدر نے اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق اسرائیل نہ صرف امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے بلکہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں، جس کے باعث غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مغربی کنارے کو "نیا غزہ” بنانے کی کوششیں خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
اردوان نے فلسطینی قیدیوں سے متعلق سخت اقدامات کو بھی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلے عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا واحد اور دیرپا حل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کے بغیر خطے میں حقیقی امن ممکن نہیں۔

دوسری جانب ترک صدر نے انقرہ میں صومالی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران افریقی خطے میں ترکی کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ترکی، ایتھوپیا اور صومالیہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
اسی عرصے میں ترکی نے دفاعی صنعت میں بھی ایک بڑی پیشرفت حاصل کی ہے۔ ملک کی معروف دفاعی کمپنی روکٹسَن کی نئی اربوں ڈالر مالیت کی تنصیبات کے افتتاح کے بعد ترکی نہ صرف یورپ میں وارہیڈز بنانے والے نمایاں ممالک میں شامل ہو گیا ہے بلکہ دھماکہ خیز مواد کے خام اجزاء کی تیاری میں بھی خود کفالت حاصل کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت ترکی کو عالمی دفاعی سپلائی چین میں ایک مضبوط اور بااثر کھلاڑی کے طور پر مزید مستحکم کرے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی ایک جانب عالمی سیاسی بیانیے میں اپنی آواز مضبوط کر رہا ہے تو دوسری جانب دفاعی اور سفارتی میدان میں اپنی پوزیشن کو تیزی سے مستحکم کر رہا ہے، جو آنے والے وقت میں خطے کی طاقت کے توازن پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔



