
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
چین نے ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں میں تیزی پیدا کر دی ہے، جبکہ دوسری جانب وہ آئندہ ماہ امریکی صدر Donald Trump کے ساتھ ہونے والی اہم ملاقات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے نہایت محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ذرائع کے مطابق چینی صدر Xi Jinping نے ایران تنازع کے حل کے لیے ایک ممکنہ امن تجویز بھی زیر غور لائی ہے، جس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ تاہم بیجنگ اس معاملے میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایک جانب واشنگٹن کے ساتھ تعلقات متاثر نہ ہوں اور دوسری جانب تہران کے ساتھ اس کی شراکت داری بھی برقرار رہے۔

چین، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اپنی توانائی ضروریات کے لیے بڑی حد تک مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی بیجنگ کے لیے براہ راست معاشی خطرہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ چین اس تنازع میں زیادہ فعال اور محتاط کردار ادا کر رہا ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے حالیہ دنوں میں تقریباً 30 سفارتی ملاقاتیں کیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ عالمی سطح پر ایک اہم ثالث کے طور پر خود کو پیش کرنا چاہتا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کا اثر و رسوخ محدود بھی ہے، خاص طور پر ایسے پیچیدہ تنازعات میں جہاں کئی عالمی اور علاقائی طاقتیں شامل ہوں۔
مبصرین کے مطابق آئندہ ہونے والی ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ ایران تنازع کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ چین کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے اقتصادی مفادات، توانائی کی سکیورٹی اور سفارتی توازن کو ایک ساتھ برقرار رکھ سکے۔
حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں ایران تنازع کو محض علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی امتحان کے طور پر دیکھ رہی ہیں، جس میں آنے والے ہفتے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔



