
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے سینئر عدالتی عہدیدار محسن اژئی کے حالیہ بیان نے خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی طیارہ بردار جہازوں کی پسپائی ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے دیے گئے سخت پیغامات اور دفاعی تیاریوں نے امریکی افواج کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں حالیہ اضافہ، خاص طور پر میزائل پروگرام اور بحری حکمت عملی، نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران اب نہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اہم سمندری راستوں پر بھی مؤثر کنٹرول قائم کر سکتا ہے۔

تاہم بین الاقوامی دفاعی ماہرین اس دعوے کو محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کی نقل و حرکت اکثر اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے تحت ہوتی ہے، جس میں جہازوں کی پوزیشننگ، تعیناتی اور واپسی شامل ہوتی ہے۔ اس لیے اسے مکمل "پسپائی” قرار دینا ضروری نہیں بلکہ یہ ایک وقتی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں دونوں فریق بیانیے کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں، جہاں بیانات کے ذریعے اپنی برتری ظاہر کرنے اور مخالف کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی رابطے جاری ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کشیدگی اپنے عروج پر ہے، لیکن دونوں جانب سے مکمل جنگ سے گریز کا رجحان بھی دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی شدید ہو سکتے ہیں، خاص طور پر توانائی کی سپلائی اور اہم تجارتی راستوں کے حوالے سے۔



