
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب ایک اہم پیش رفت میں امریکی بحریہ نے ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو چھ گھنٹے تک جاری رہنے والے تعطل کے بعد اپنے قبضے میں لے لیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق جہاز نے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کی تھی اور متعدد وارننگز کے باوجود رکنے سے انکار کر دیا تھا۔
امریکی صدر کے مطابق امریکی جنگی جہاز نے ابتدائی طور پر جہاز کو رکنے کا حکم دیا، تاہم عمل نہ ہونے پر اس کے انجن کے حصے کو نشانہ بنایا گیا تاکہ اسے حرکت سے روکا جا سکے۔ بعد ازاں امریکی میرینز نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جہاز پر چڑھ کر اسے مکمل طور پر کنٹرول میں لے لیا اور اب جہاز کی تلاشی لی جا رہی ہے تاکہ اس میں موجود سامان کا جائزہ لیا جا سکے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ جہاز پہلے ہی پابندیوں کی فہرست میں شامل تھا اور اس پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔ اس کارروائی کو ایران کے خلاف جاری دباؤ کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد تہران کی سمندری نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران نے اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بحری ناکہ بندی، توانائی سپلائی اور علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس تنازع کا مرکز بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف خطے میں فوجی تصادم کے امکانات بڑھ سکتے ہیں بلکہ عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی جھڑپ کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔



